پیر 27 جولائی 2026 - 13:09
احکامِ اربعین | زیارتِ اربعین کے زائر کی نماز قصر ہو گی یا کامل؟

حوزہ / اربعین کے سفر میں اگر کوئی شخص ابتدا ہی سے کربلا، نجف یا کسی ایک شہر میں دس دن قیام کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کی نماز کامل ہوگی۔ لیکن اگر وہ ایسے ارادے کے بغیر مختلف شہروں کے درمیان سفر کرتا رہے اگرچہ پورا سفر دس دن سے زیادہ پر مشتمل ہو، تب بھی اس پر مسافر کا حکم جاری ہوگا اور اس کی نماز قصر ہو گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین کے ایام کی مناسبت سے "احکامِ اربعین" کے عنوان سے خصوصی سلسلہ پیش خدمت ہے۔ جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین محمدی شرعی اربعین کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں۔

احکامِ اربعین | زیارتِ اربعین کے زائر کی نماز قصر ہوگی یا کامل؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین۔

اہل بیت علیہم السلام کے ایامِ حزن و غم کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔

روایات کے مطابق حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کے روضۂ اقدس کی زیارت کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ انسان سے بلاؤں اور خطرات کو دور فرماتا ہے۔

ایک سوال پوچھا گیا ہے کہ:

اگر ہم زیارتِ اربعین کے لیے اپنے شہر سے روانہ ہوں اور واپسی تک ہمارے پورے سفر کی مدت دس دن سے زیادہ ہو جائے تو اس سفر میں ہماری نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا نماز کامل پڑھی جائے یا قصر؟

اس کے جواب میں عرض ہے:

اگر آپ کسی ایک شہر مثلاً کربلا یا نجف، میں ابتدا ہی سے دس دن مکمل قیام کا ارادہ رکھتے ہوں، یعنی پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہو کہ پورے دس دن اسی شہر میں رہیں گے تو اس صورت میں آپ کی نماز کامل ہو گی اور روزہ بھی صحیح ہو گا۔

لیکن اگر آپ کے پورے سفر کی مدت مثلاً اپنے ملک سے روانگی، بارڈر عبور کرنا، کاظمین کی زیارت، پھر کربلا اور نجف جانا اور اس کے بعد وطن واپس آنا، مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ ہو لیکن ان شہروں میں سے کسی ایک میں بھی ابتدا ہی سے دس دن قیام کا ارادہ نہ ہو تو اس صورت میں آپ پر مسافر کا حکم جاری ہو گا اور آپ کی نماز قصر ہو گی۔

لہٰذا صرف وہی افراد نماز کامل پڑھیں گے اور ان کا روزہ صحیح ہو گا جو ابتدا ہی سے کسی ایک معین شہر میں پورے دس دن قیام کا ارادہ رکھتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha